جاری فوجی کشیدگی کے دوران ایران کی کرنسی 'ریال' کی قدر گر کر ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گئی۔
منگل، 29 ستمبر کو ایران کی کرنسی 'ریال' کھلی منڈی میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی، جہاں اس کا تبادلہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 25 لاکھ (2.5 ملین) ریال فی ڈالر کی شرح سے ہوا۔ یہ شدید گراوٹ پچھلی کم ترین سطح کے صرف 27 دن بعد دیکھی گئی، جب 2 ستمبر کو ڈالر کی قیمت 22 لاکھ (2.2 ملین) ریال تک پہنچ گئی تھی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا طویل تنازع کس طرح 'برکس' () کے اس رکن ملک کی معیشت کو بتدریج کمزور کر رہا ہے۔
کرنسی کا یہ بحران تہران کو بجٹ کے بڑھتے ہوئے خسارے پر قابو پانے کے لیے ایسے مالیاتی اقدامات کرنے پر مجبور کر رہا ہے جو عوامی سطح پر غیر مقبول ہیں۔ ستمبر کے اوائل میں، حکام نے بغیر سبسڈی والے پیٹرول کی قیمت دوگنا کر دی؛ 8 ستمبر سے، تیسرے درجے (تھرڈ ٹائیر) کے پیٹرول کی قیمت 50 ہزار ریال سے بڑھ کر ایک لاکھ ریال فی لیٹر (تقریباً 4 سے 5 امریکی سینٹ) ہو گئی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قوتِ خرید میں کمی کے باعث مرکزی بینک کو مارچ کے آخر میں ایک کروڑ (10 ملین) ریال کا نوٹ جاری کرنا پڑا، جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑی مالیت کا نوٹ ہے۔
ماہرین ریال کی قدر میں اس تیزی سے کمی کی وجہ سخت پابندیوں اور سمندری ناکہ بندی کو قرار دیتے ہیں، جس نے تیل کی برآمدات کو متاثر کیا ہے اور غیر ملکی کرنسی کی آمد کے اہم ذریعے کو منقطع کر دیا ہے۔ جیسے جیسے بچت کی قدر کم ہو رہی ہے اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، عوام اپنے اثاثوں کو غیر ملکی کرنسی اور قیمتی دھاتوں میں منتقل کر رہے ہیں، جس سے ایران کے پہلے سے کمزور مالیاتی نظام پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔